اتوار 20 ستمبر 2020 - 4:04:56 شام

عبوری کمیٹی میں قومی معیشت پرCOVID-19کے اثرات کا جائزہ

  • وزير الاقتصاد يستعرض مخرجات أعمال اللجنة المؤقتة للتعامل مع آثار كورونا على الاقتصاد الوطني
  • وزير الاقتصاد يستعرض مخرجات أعمال اللجنة المؤقتة للتعامل مع آثار كورونا على الاقتصاد الوطني

ابوظبی، 29 جولائی ،2020 (وام) ۔۔ قومی معیشت پر COVID-19 کے اثرات سے نمٹنے کے لئے عبوری کمیٹی کا پانچواں ورچول اجلاس کابینہ کے رکن اور وزیر اقتصادیات عبد اللہ بن طوق المری کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کی طرف سے کی جانے والی کوششوں میں اب تک ہونے والی پیشرفت سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر اقتصادیات عبد اللہ بن طوق المری کو وباء کے آغاز کے بعد سے گذشتہ مہینوں کے دوران وفاقی اور مقامی حکومتوں کی طرف سے کئے گئے تمام اقدامات کے معاشی اور مالی اثرات اور ان اوقات کے دوران ملک کے کاروباری تسلسل کو یقینی بنانے سے آگاہ کیا گیا۔ وزیر اقتصادیات نے کہا کہ عبوری کمیٹی ملک کے معاشی ماحول میں ہونے والی پیشرفت کی حمایت میں اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ حالیہ اقدامات، حکومت کے اعلان کردہ اقتصادی پیکجوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی پائیدار اور عملی پالیسیاں اور حل تیار کرنے میں ان کی کامیابیوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے جو کاروباری شعبے کی ضروریات کے مطابق ہے اور اس کی جلد بحالی میں معاون ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ کمیٹی میں وزارت اور اس کے شراکت دار براہ راست اور وقتا فوقتا پیکجوں اور اقدامات کے نفاذ کا جائزہ لیں گے اور کاروباری سرگرمیوں کی حمایت اور معیشت کی ترقی کے لئے ہر طرح کی کوششوں کی حمایت کریں گے۔ متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کے نائب گورنر سیف حدیف الشمسی نے بینک کے اقدامات کی تفصیل بتائی جن میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو بحران کے دوران سرگرمیاں جاری رکھنے میں مدد فراہم کرنا، رئیل اسٹیٹ خریداروں کو سہولیات مہیا کرنااور لیکویڈیٹی میں بہتری لانا شامل ہیں ۔ رپورٹ میں شامل مرکزی بینک کے اعدادوشمار کے مطابق 18 جولائی تک بینکوں نے 43.6 ارب درہم نکلوائے تھے جو سنٹرل بینک کے ذریعے فراہم کردہ 50 ارب درہم اہداف والی معاشی امداد اسکیم کے 87.2 فیصد کے برابر ہیں۔ بینکوں نے ان میں سے 95 فیصد (41.42 ارب درہم ) کا استعمال متاثرہ شعبوں کے لئے قرضوں کی ادائیگی ملتوی کرنے کے لئے کیا جو گذشتہ جون کے آغاز میں استعمال ہونے والی رقم کے مقابلے میں تقریبا 37 37.6 فیصد کا اضافہ ہے۔ فراہم کردہ امداد سے مجموعی طور پر 26 بینکوں نے فائدہ اٹھایا جن میں سے 17 بینکوں نے اپنا حصہ 100 فیصد واپس لے لیا۔ رپورٹ کے مطابق اس معاونت سے فائدہ اٹھانے والے متاثرہ صارفین کی کل تعداد 272,382ہے جو جون کے آغاز میں رجسٹرڈ ہونے والی تعداد سے دوگنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایس ایم ایز نے جو مجموعی طور پر اس امداد میں سے 4.1 ارب درہم کا فائدہ اٹھایا ہے جو جون کے آغاز میں 3.2 ارب درہم تھی۔ یہ رقم مجموعی رقم کا 9.3 فیصد بنتی ہے جس سے تمام متاثرہ شعبوں نے فائدہ اٹھایا۔ جون کے آغاز میں اس سے فائدہ اٹھانے والی 7,440کمپنیوں کی تعداد 28 فیصد اضافے کے ساتھ 18 جولائی میں بڑھ کر 9,527 ہوگئی۔ اس امداد سے اانفرادی طور پر فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد 260,616 تک پہنچ گئی جو جون 2020 کے آغاز میں ان کی تعداد کے مقابلہ میں 110 فیصد زیادہ ہے۔ نجی شعبے کی کمپنیوں نے اس مالی اعانت میں سے 33.7 اربر درہم کا فائدہ اٹھایا۔ رپورٹ میں یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ وزارت انسانی وسائل کی طرف سے شروع کیے گئے اقدامات میں مالی اور انتظامی امدادی پیکیجز شامل ہیں جو اجرت کے تحفظ، ورچول لیبر مارکیٹ کی ترقی اور بینک انشورنس کے متبادل کے طور پر انشورنس سسٹم کو یقینی بناتے ہیں۔ ان اقدامات سے متاثرہ شعبوں کی حمایت، معیشت کو اضافی محرک فراہم کرنے اور نجی معاملات پر آپریٹنگ اخراجات کو کم کرنے میں مدد ملی ۔ وزارت انسانی وسائل کے انڈر سیکرٹری سیف احمد السویدی نے کہا کہ وزارت نے آجروں کو 8.3 ارب درہم بینک گارنٹیوں کی ادائیگی کی ہے جو کل بینک گارنٹیوں کا 50 فیصد ہے۔ یہ متحدہ عرب امارات کی کابینہ کے بینک گارنٹیوں کو منسوخ کرنے اور ان کی جگہ ملازمت انشورنس سسٹم کے ساتھ تبدیل کرنے کے فیصلے کے عین مطابق تھا جس نے کاروباری تسلسل کو یقینی بنانے میں مدد کی۔ رپورٹ میں وزارت اقتصادیات کی جانب سے سیاحت کے شعبے کی حوصلہ افزائی کے لئے پیش کردہ سفارشات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان کا مقصد ہوٹل کے اداروں کے آپریشنل اخراجات کو کم کرنا، مقامی سیاحت کی بحالی اور سیاحوں کا اعتماد بڑھانے اور بین الاقوامی سیاحوں کی آمد کو بحال کرتے ہوئے حفاظتی خدشات کو کم کرنے کے لئے سیکورٹی اور حفاظتی معیاروں پر عمل کرنا تھا۔ ترجمہ: ریاض خان ۔ http://wam.ae/en/details/1395302859143

WAM/Urdu