بدھ 12 مئی 2021 - 11:32:40 صبح

فاطمہ بنت مبارک نے خواتین ، امن و سلامتی کے قومی ایکشن پلان کا آغاز کردیا

  • ‎فاطمة بنت مبارك تطلق أول خطة عمل وطنية حول المرأة والسلام والأمن على مستوى دول الخليج العربية
  • ‎الاتحاد النسائي العام ينظم دورة "النوع الاجتماعي في عمليات السلام"
  • ‎فاطمة بنت مبارك تطلق أول خطة عمل وطنية حول المرأة والسلام والأمن على مستوى دول الخليج العربية
  • ‎فاطمة بنت مبارك تطلق أول خطة عمل وطنية حول المرأة والسلام والأمن على مستوى دول الخليج العربية
  • ‎فاطمة بنت مبارك تطلق أول خطة عمل وطنية حول المرأة والسلام والأمن على مستوى دول الخليج العربية
  • ‎فاطمة بنت مبارك تطلق أول خطة عمل وطنية حول المرأة والسلام والأمن على مستوى دول الخليج العربية
  • ‎فاطمة بنت مبارك تطلق أول خطة عمل وطنية حول المرأة والسلام والأمن على مستوى دول الخليج العربية
ویڈیو تصویر

ابوظہبی ، 30 مارچ ، 2021 (وام) ۔۔ جنرل ویمن یونین کی چیئر ویمن ، زچہ و بچہ کی سپریم کونسل کی صدر اور فیملی ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی سپریم چیئرویمن عزت مآب شیخہ فاطمہ بنت مبارک نے خواتین ، امن و سلامتی کے موضوع سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1325 پر عملدرآمد کی خاطر متحدہ عرب امارات کے قومی ایکشن پلان کا آغاز کردیا - یہ سنگ میل جی سی سی ملک کے لئے پہلا منصوبہ ہے اور امن و سلامتی میں خواتین کے کردار کو آگے بڑھانے کے لئے متحدہ عرب امارات کے عزم کا عکاس بھی ہے – اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ وہ متحدہ عرب امارات کے نیشنل ایکشن پلان کی تیاری کیلئے وہ جنرل ویمن یونین اور ان تمام قومی اداروں ، سول سوسئاٹی کی کاوشوں کو سراہتی ہیں ۔ انہوں نے خواتین ، امن و سلامتی کیلئے یو این ویمن کے کردار کو بھی سراہا ۔ ان کا کہنا تھا ترقیاتی ویژن میں عرب خواتین یا دنیا کی تمام خواتین کو کبھی نظرانداز نہیں کیا گیا ، تمام شعبوں میں خواتین کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کیلئے اقدام کیئے گئے ، ہر موڑ پر خواتین کے لئے مدد فراہم کی گئی ۔ متحدہ عرب امارات نے اس بین الاقوامی شراکت داری اور عالمی ادارہ جاتی فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لئے کام کیا جو صنفی مساوات ، اشتراک اور شراکت داری اور خواتین کی ترقی کو مستحکم کرتا ہے – عزت مآب کا کہنا تھا کہ اب جب عرب امارات کے قیام کی گولڈن جوبلی منائی جارہی ہے تو اس موقع پر ہم سب کو ان اقدامات پر فخر کا احساس ہوتا ہے جو کہ خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے اب تک کئے گئے ، متحدہ عرب امارات نے خواتین کو آگے بڑھانے اور محفوظ اور مستحکم معاشروں کی تعمیر کے حصے کے طور پر عورتوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا ، اس حوالے سے علاقائی اور عالمی سطح کی انسان دوست تنظیموں کی حمایت بھی کی جاتی رہی ۔ اس حوالے سے ہمارے بانی قائد شیخ زاید بن سلطان کا ویژن مشعل راہ رہا ۔ انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق عرب امارات کی جانب سے ہر ایڈوانس درجہ تک پہنچنے کے عزم کا اعادہ کیا – انہوں نے اس مقام کے حصول میں صدر عزت مآب شیخ خلیفہ بن زاید النھیان ، نائب صدر و وزیراعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم اور ابوظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے نائب سپریم کمانڈر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النھیان کی روشن خیال ویژن والی قیادت کو اہم قرار دیا جن کی کاوشوں اور دلچسپی کی وجہ سے خواتین کے حقوق سے متعلق قانون سازی ہوئی اور فیصلہ سازی و قیادت کے عمل میں خواتین کو بااختیار بنانے کے مواقع میسر آئے – شیخہ فاطمہ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا نیشنل ایکشن پلان ، عالمی تعاون ، تجربات کے تبادلے ، مشترکہ کاوشوں ، پروگرامز اور اقدامات کی مزید راہیں تلاش کرے گا ۔ دنیا کے مختلف ممالک میں خواتین سے متعلق ترقیاتی فرق کو دور کرنے کے ساتھ موجودہ چیلنجز پر قابو پانے اور امن و خوشحالی کی خاطر خواتین کی شراکت داری کو بڑھائے گا – ان کا کہنا تھا کہ عرب امارات ، مرد و خواتین کو اپنی پالیسی میں کلیدی سمجھتا ہے اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ پائیدار ترقی کیلئے خواتین کو ہر شعبے میں آگے لانے کے مواقع فراہم کرتا ہے ۔ اقوام متحدہ کے خواتین پروگرامز اور اقدامات سے متحدہ عرب امارات کی حمایت بھی ہوتی ہے – وزیر برائے امور خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النھیان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات ترقی کے ستونوں کیلئے تمام شعبوں میں خواتین کے اہم اور بنیادی کردار پر یقین رکھتا ہے اور یہ تمام معاشروں کو ترقی اور خوشحالی کی طرف لے جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس ایکشن پلان کا آغاز ان شعبوں میں خواتین کے کردار کی اہمیت کی تصدیق کرتا ہے ۔ متحدہ عرب امارات اپنی قیادت کی ہدایات کے مطابق صنفی مساوات کے حصول کی خاطر کاربند ہے اور معاشرے میں خواتین کے کردار کو بڑھا رہا ہے ، قومی ترقی اور کامیابیوں کے عمل میں خواتین کا کردار قابل فخر بھی ہے ۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کے نیشنل ایکشن پلان کے کامیاب آغاز پر عزت مآب شیخہ فاطمہ کو مبارکباد بھی پیش کی – جنرل ویمن یونین کی سکریٹری جنرل ، نورۃ السویدی کا کہنا تھا کہ امن و سلامتی کے عمل میں خواتین کی شراکت داری کے معیار کو بلند کرنے کیلئے یہ منصوبہ بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ متحدہ عرب امارات کے عزم برائے خواتین ، امن اور سلامتی قابل ستائش ہے ، اسے عزت مآب شیخہ فاطمہ کے روشن خیال ویژن کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کا مقصد غیر ملکی پالیسیوں میں صنف کے نقطہ نظر سے متعلق جواب دینا ہے ، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے لئے انسانیت سوز رویہ جات اور پرتشدد انتہا پسندی کو روکنے اور ان کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہنگامی ردعمل اور بحران کے حالات میں بھی یہ منصوبہ بہت اہمیت کا حامل ہے – اس ایکشن پلان کا مقصد تنازعات کی روک تھام میں خواتین کی موثر شرکت ، امن تعمیر میں ان کی شرکت میں اضافہ ، خواتین فوجی آفیسرز کی تربیت کے ساتھ ساتھ ملکی سیاست میں خواتین کی شراکت میں اضافہ کرنا ہے ۔ متحدہ عرب امارات کا نیشنل ایکشن پلان ، قومی اور بین الاقوامی پروگراموں کے ذریعے خواتین ، امن اور سلامتی کے ایجنڈے کا معاون ہے – انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کی ایسی مہم چلائے گی جس سے اس ایکشن پلان کے مقاصد کے حصول کی خاطر شعور اجاگر ہو اس کے ساتھ ساتھ حکومتی عہدیداروں کی صلاحیت کو بھی انہی مقاصد کیلئے بڑھایا جائے گا – السویدی کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات باضابطہ اور غیر رسمی فریم ورک کے تحت قائدین اور فیصلہ سازوں کی حیثیت سے امن کی تعمیر میں خواتین کے کردار کی حمایت کرتا ہے ۔ عرب امارات کو ویمن اینڈ پیس اینڈ سیکیورٹی فوکل پوائنٹس نیٹ ورک (ڈبلیو پی ایس ایف پی این) کی بانی ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور وہ ان ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2242 متعارف کروائی تھی ۔ اس کے ساتھ عرب امارات اس مقاصد کیلئے بین الاقوامی سرمایہ کاروں میں بھی شامل ہے جو کہ دنیا کے 113 ممالک میں دو ارب ڈالر کی امداد سے خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ اور ان کو بااختیار بنانے سے متعلق پروگرام پیش کرچکا ہے – جی سی سی کیلئے یواین ویمن کی رابطہ کار آفیسر ڈاکٹر موزۃ الشحی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ ، یو اے ای حکومت کے ایسے قابل فخر اقدام کو سراہتا ہے - متحدہ عرب امارات کے قومی منصوبے کے اس اہم آغاز کے ساتھ ، ان کوششوں کو تمام سرکاری ایجنسیاں اور متعلقہ فریقینایک خاص طریقہ کار اور متفقہ فریم ورک کے مطابق مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے اس کیلئے معاون ہیں ۔ یہ خواتین اور امن سے متعلق یواین سلامتی کونسل کی قرارداد 1325 پر عملدرآمد سے متعلق بھی بہت اہم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم ایجنڈا کی پیروی کرنے والے ممالک میں عرب امارات کی شمولیت قابل مسرت ہے ، اس ایکشن پلان سے عرب امارات کی عالمی ساکھ مزید مستحکم ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا نیشنل ایکشن پلان ، امن اور سلامتی کے میدان میں متحدہ عرب امارات کے کردار میں اضافہ کرے گا ، خاص طور پر استعداد سازی کے ذریعہ یہ خواتین کے سیاسی اور معاشی بااختیار ہونے کے جواب میں اہم ہے – یواین قرارداد 1325 کے نفاذ کے لئے متحدہ عرب امارات کے قومی ایکشن پلان کے آغاز میں شامل قومی اداروں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے علاقائی اور عالمی سطح پر خواتین ، امن اور سلامتی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے ایک نئی رفتار ملے گی ۔ اس پروگرام کے ساتھ عرب امارات دنیا کے ان 84 ممالک میں شامل ہوگیا ہے جنہوں نے خواتین ، امن و سلامتی کی حمایت کا ایجنڈا دیا اور اسکی عالمی سطح پر مقبولیت اور قدر بڑھ رہی ہے – بین الاقوامی تعاون کی وزیر مملکت ، ریم بنت ابراہیم الھاشمی کا کہنا تھا کہ خواتین ، امن اور سلامتی سے متعلق قومی ایکشن پلان تیار کرنے والے پہلے خلیجی ملک کی حیثیت سے متحدہ عرب امارات نے خواتین کے اہم کردار کو تسلیم کیا ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان کی کامیاب ترقی انصاف اور مساوات اور انسانی حقوق کے لئے بنیادی احترام کے تصورات میں متحدہ عرب امارات کی قیادت کی عکاس ہے – وزارت دفاع کے انڈر سکریٹری مطر سالم الظاھری نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے اس منصوبے سے تمام شعبوں میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے ملک کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور سلامتی اور امن کو برقرار رکھنے میں ان کے کردار کی موثر شراکت اور استحکام کی تصدیق بھی کی گئی ہے – متحدہ عرب امارات کا یہ قومی منصوبہ خواتین کو مقامی فوجی میدان میں تیار کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگا ، اس کے ساتھ ساتھ یہ پالیسی سازی کے مختلف شعبوں میں بہت سے عالمی اقدامات میں ، جو تنازعات اور جنگی علاقوں میں خواتین کے حقوق کی ضمانت دیتے ہیں اور قوانین کے مسودے میں ان کی شرکت اور امن مذاکرات کی ضمانت دیتے ہیں کے حوالے سے بھی اہم ہے - وزارت انصاف کے قائم مقام سیکرٹری جج ڈاکٹر سعید علی بحبوح النقبی کا کہنا تھا کہ ان کی وزارت امن و سلامتی کے شعبوں میں خواتین کی مدد اور بااختیار بنانے میں سرگرمی سے حصہ لے رہی ہے ، متحدہ عرب امارات میں خواتین معاشرے کا نصف حصہ ہیں اور وہ بغیر امتیاز کے زندگی کے تمام شعبوں میں مردوں کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرتی ہیں ملک کے بانی قائدین ان اقدار پر مکمل طور پر یقین رکھتے ہیں جو آئین کے تحفظ میں ہیں اور جو خواتین اور مردوں کے مابین مساوات کے اصول کو برقرار رکھتی ہیں – متحدہ عرب امارات کے صنفی توازن کونسل کی نائب صدر مونا غنیم المری کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے صنفی توازن کی کامیابیوں کو ریاستی سطح پر تمام وزارتوں اور سرکاری ایجنسیوں کے مابین تعمیری اشتراک پر بنایا گیا ہے ، جس کی قیادت اس کی دانش ور قیادت کے ویژن کی وجہ سے ہے – جنرل اتھارٹی برائے اسلامی امور و اوقاف کے ڈائریکٹر جنرل ، محمد سعید النیادی کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کا منصوبہ علاقائی اور عالمی سطح پر خواتین ، امن ، اور سلامتی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا ۔ اس تناظر میں ان کی اتھارٹی ان تمام کوششوں کی حمایت کرتی ہے جو ایسے اقدامات اور ہدایات جو قومی پالیسیوں اور پروگراموں کو اپنانے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ مختلف شعبوں میں خواتین کی ضروریات کو مربوط بنایا جاسکے – خواتین پولیس کی خصوصی کوآرڈینیشن کمیٹی کی چیئر میجر ڈاکٹر امل صباح قمبر نے کہا کہ ان کی وزارت ایک مربوط سرکاری کام کے نظام کے تحت کام کر رہی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ خواتین سلامتی ، استحکام ، امن ، اور حصول کے شعبوں میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہوں ۔ قانون سازی کو مضبوط بنانے اور معاون اقدامات کو اپنانے کے ذریعے پولیس ہر سطح پر کام کرتی ہے ، ان میں سیکیورٹی اور امن میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے قومی حکمت عملی کی تشکیل اور نفاذ میں فعال شرکت شامل ہے – متحدہ عرب امارات کے قومی ایکشن پلان کی تیاری میں وفاقی ، مقامی اداروں اور سول سوسائٹی سمیت 14 قومی اداروں نے حصہ لیا ۔ ان میں وزارت دفاع ، وزارت خارجہ و بین الاقوامی تعاون ، وزارت داخلہ ، وزارت انصاف ، وزارت خزانہ ، وزارت معیشت ، وزارت صحت ، وزارت ثقافت ، وزارت علیم ، جنرل ویمن یونین ، اتھارٹی برائے اسلامی امور ، نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ، وفاقی مرکز برائے مسابقت و شماریات ، وفاقی قومی کونسل ، صنفی توازن کونسل شامل ہیں جبکہ انہیں یواین ویمن آفس جی سی سی کا تکنیکی تعاون حاصل رہا – ترجمہ ۔ تنویر ملک http://wam.ae/en/details/1395302922757

WAM/Urdu