منگل 15 جون 2021 - 11:35:50 صبح

عرب امارات ، مالیات و ٹیکسز کے 28 مسابقتی انڈکسز میں دنیا کے 10 بڑے ممالک میں شامل


ابوظہبی ، 2 مئی ، 2021 (وام) ۔۔ مسبابقتی جائزہ میں مہارت رکھنے والے چار عالمی اداروں نے مالیات اور ٹیکسز سے متعلق 28 مسابقتی انڈکسز میں متحدہ عرب امارات کو دنیا کے دس بڑے ممالک میں شامل کیا ہے – یہ بات وفاقی مسابقتی و شماریاتی مرکز ، ایف سی ایس سی کی طرف سے جاری رپورٹ میں بتائی گئی جس میں آئی ایم ڈی ورلڈ مسابقتی ایئر بک ، دی لیگاتوم خوشحالی انڈکس ، عالمی اقتصادی فورم کا سیاحتی و سفری مسابقتی رپورٹ ، دی گلوبل ٹیلینٹ مسابقتی انڈکس جی ٹی سی آےی اور عالمی مسابقتی انڈکس 0ء4 میں دی گئی درجہ بندیوں کو مدنظر رکھا گیا ہے – رپورٹ کے مطابق عرب امارات کو رئیل پرسنل ٹیکس انڈکس ، کولیکٹڈ پرسنل انکم ٹیکسز انڈکس ، ٹیکس سے بچنے کی کم ترین شرح والے انڈکس میں پہلی پوزیشن حاصل ہوئی ہے جبکہ بین الحکومتی منتقلیوں ، مقامی مرکزی حکومتی قرض اور ٹیکس کھپت کے ریٹ آف فلو انڈکسز میں تیسری پوزیشن ملی ہے – متحدہ عرب امارات نے جنوری 2018 میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس ، ویٹ کو اپنایا تھا جوکہ کئی مصنوعات اور سروسز پر ہر سطح کی سپلائی چین کے دوران براہ راست 5 فیصد ٹیکس کی شرح سے وصول کیا جاتا ہے – سال 2017 کی چوتھی سہہ ماہی میں عرب امارات نے صحت پر مضر اثرات کی حامل اشیاء جیسا کہ تمباکو ، انرجی ڈرنکس اور سافٹ ڈرنکس کی حوصلہ شکنی کیلئے ایکسائز ٹیکس بھی متعارف کرایا تھا – علاوہ ازیں متحدہ عرب امارات نے مالیات اور ٹیکس میں کاروباری مسابقت کے حوالے سے دنیا کے دس بڑے ممالک میں جگہ بنائی ہے جوکہ کوئی انکم ٹیکس لاگو کیئے بغیر ویٹ اور ایکسائز ٹیکس جیسے بالواسطہ ٹیکسز پر توجہ مرکوز رکھنے کے اقدام کی مرہون منت ہے ۔ دوسری جانب دنیا کے کئی ممالک ذاتی منافع اور کارپوریشنز پر ٹیکسز بڑھانے پر توجہ مرکوز کیئے ہوئے ہیں تو ایسی صورتحال میں متحدہ عرب امارت نے حقیقی ذاتی ٹیکسز اور ٹیکس بچاؤ پر کم ترین شرح کے تناظر میں دنیا میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے جس سے ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں ترغیب ملی ہے – عالمی اقتصادی فورم نے 2020 کی اپنی رپورٹ میں ٹیکسز کھپت کی کم ترین شرح والے ممالک میں عرب امارات کو دنیا میں تیسری پوزیشن دی تھی جبکہ روزگاری ترغیبات پر ٹیکسز کے کم ترین اثرات کے حوالے سے عرب امارات کو پانچویں پوزیشن دی تھی ۔ مزید برآں سرمایہ کاری پر ٹیکس اثرات کے حوالے سے اسے دنیا میں آٹھویں پوزیشن جبکہ سرمایہ کاری مالیات کی دستیابی میں ساتویں پوزیشن ملی ہے ۔ یہ درجہ بندی لیگاتوم خوشحالی انڈکس میں دی گئی ہے – ترجمہ ۔ تنویر ملک http://www.wam.ae/en/details/1395302931770

WAM/Urdu