متحدہ عرب امارات انسانیت کی ترقی اور پیشرفت کا لازمی شراکت دار اور حامی رہے گا: صدرکا 51 ویں قومی دن پرپیغام

متحدہ عرب امارات انسانیت کی ترقی اور پیشرفت کا لازمی شراکت دار اور حامی رہے گا: صدرکا 51 ویں قومی دن پرپیغام

متحدہ عرب امارات انسانیت کی ترقی اور پیشرفت کا لازمی شراکت دار اور حامی رہے گا: صدرکا 51 ویں قومی دن پرپیغام

 


ابوظہبی، یکم دسمبر، 2022 (وام) ۔۔ صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید آل نھیان نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا 51 واں قومی دن ماضی سے سیکھتے اور امید، رجائیت اور اعتماد کے ساتھ مستقبل پر نظر رکھتے ہوئے بیداری اور غور و فکر کے ساتھ اپنے حال کودیکھنے کا دن ہے۔

 

متحدہ عرب امارات کے 51ویں قومی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں عزت مآب شیخ محمد بن زاید نے کہا کہ اپنے شہریوں کا خیال رکھنا اور ان کے سامنے ترقی، تخلیقی صلاحیتوں اور خود اعتمادی کی تمام راہیں کھولنا ہماری اولین ترجیح رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی اور ہم اس مقصد کے حصول کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔

 

انہوں نے یقین دلایا کہ متحدہ عرب امارات ہر اس چیز کا کلیدی شراکت دار اور حامی رہے گا جو انسانیت کی خوشحالی اور ترقی کا باعث اور موسمیاتی تبدیلی، فوڈ سیکیورٹی، بیماریوں، وبائی امراض اور غربت جیسے اہم چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دنیا کی صلاحیت کو فروغ دیتے ہیں۔

 

عزت مآب کے پیغام کا متن

بھائیو،بہنو اور بیٹو

 

51واں قومی دن ایک ایسا دن ہے جس پر ہم ماضی سے سیکھتے اور حال کو کھلی آنکھوں اور غور و فکر کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ یہ وہ دن ہے جس پر ہم امید، رجائیت اور اعتماد کے ساتھ مستقبل کی طرف دیکھتے ہیں کہ ہمارا مستقبل اللہ کی مدد، اور مناسب منصوبہ بندی اور ہمارے بچوں کی کوششوں اور اپنے وطن کے لیے ان کی محبت سے بہتر اور روشن ہوگا۔

 

قومی دن فخر اور خوشی کا موقع ہے۔ یہ توانائیوں کو دوبارہ تروتازہ کرنے، نئے عزم وہمت کو تلاش کرنے اور اپنی کامیابیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ہر اماراتی کی روح اور وطن کے ساتھ عہد کی تجدید کا موقع بھی ہے۔ یہ خطے میں تجدید نو کے لیے ایک علامت اور نمونہ اور اس کے لوگوں کے لیے ایک خوشحال مستقبل کی امید کا ذریعہ ہے۔

 

بھائیو اور بہنو، متحدہ عرب امارات ایک عظیم اور قیمتی امانت ہے جو ہمارے باپ دادا نے ہمیں سونپی ہے۔ ہم اسے اپنے بیٹوں اور پوتوں کے حوالے کر دیں گے جو ہمارے بعد جھنڈا لے کر ترقی کے اس سفر کو جاری رکھیں گے اور ہماری کامیابیوں کو اسی طرح سے مستحکم کریں گے جس سطرح سے ہم نے اپنے آباواجداد کی چھوڑی ہوئی بنیادوں کو مستحکم کیا۔قوم، تاریخ اور آنے والی نسلوں کے لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ اس امانت کو پوری قوت، محنت اور عزم کے ساتھ محفوظ رکھیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے۔

 

بھائیو، بہنو اور بیٹو،

 

اس شاندار دن پر، ہم بااختیار بننے کے مرحلے کے رہنما مرحوم شیخ خلیفہ بن زاید آل نھیان کو عقیدت کے ساتھ یاد کرتے ہیں، جن کا اس سال انتقال ہو گیا تھا۔ہمارے وطن کے چپنے چپے پر انمٹ نقوش چھوڑنے والے مرحوم شیخ ہمارے دلوں میں اور دنیا بھر میں اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں، اپنے اچھے سفر کی یادیں چھوڑ گئے ہیں ۔ وہ متحدہ عرب امارات کی تعمیر اور اس کے ستونوں کو مضبوط کرنے میں ہر قدم پر مرحوم بانی شیخ زاید بن سلطان آل نھیان کے شانہ بشانہ تھے۔

 

اللہ تعالی شیخ خلیفہ اور شیخ زاید اور ان کے بھائیوں، بانی قائدین پر رحم کرے اور انہوں نے اس ملک اور اس کے لوگوں کے لئے جو کچھ کیا اس کے بدلے میں بہترین اجر عطا فرمائے۔ ان کی کاوشیں نسل در نسل کے لیے مینارہ نور اور مشعل راہ رہیں گی۔ جب ہم آج اس ترقی، فخر ، فضل اور اتحاد کی قدر پر غور کرتے ہیں جو آج ہمیں حاصل ہے، تو ہمیں عظیم بانیان کی جانب سے 2 دسمبر 1971کو اٹھائے گئے قدم کی وسعت کا احساس ہوتا ہے۔

 

بھائیو،بہنو اور بیٹو

گزشتہ 50 سالوں کے دوران، ہمارا ملک "قیام" سے "امپاورمنٹ" تک اپنے فاتحانہ سفر اپنے مقاصد، پہلوؤں اور عمل کے طریقہ کار کے ساتھ کئی مراحل سے گزرا ہے ۔

 

انشاء اللہ، متحدہ عرب امارات تعمیر و ترقی، فوائد کو مستحکم کرنے اور ایک عظیم ترقی کے حصول کی جانب عزائم کو حاصل کرنے میں اپنے ثابت قدم انداز کو جاری رکھے گا۔ متحدہ عرب امارات سائنس اور ٹیکنالوجی پر توجہ جاری رکھے گا اور ان شعبوں میں مواقع سے فائدہ اٹھائے گا تاکہ موجودہ اور آنے والی نسلیں مستفید ہو سکیں۔ متحدہ عرب امارات اپنے سب سے قیمتی مواد، عوام اور اخلاقی وسائل اور لوگوں کے بہترین مفادات میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کے حصول کے لیے کام کر رہا ہے، جس سے سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان شراکت داری کو گہرا کیا جا رہا ہے۔ یو اے ای محتاط رہتے ہوئے اپنی ترقیاتی ترجیحات کا تعین کر رہا ہے، اور اپنے تمام اہداف اور عزائم کو حاصل کرنے کے لیے بنیادی راستے کے طور پر تعلیم کو اپ گریڈ کر کے تعلیمی عمل کے نتائج میں معیاری ترقی حاصل کر رہا ہے۔ یہ آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنا رہا ہے، علم پر مبنی معیشت کی تعمیر کر رہا ہے، اور دنیا بھر میں ترقیاتی مسابقت میں شامل ہو رہا ہے۔

 

ان تمام اہداف کو حاصل کرنے کے لیے جس کی ہم خواہش رکھتے ہیں، اگلے مرحلے میں ہماری بنیادی توجہ کوششوں کو دوگنا کرنے کے ساتھ ساتھ کام کی قدر، کارکردگی اور اپنے فرض کے لیے لگن کو بڑھانا ہے۔ بھائیو اور بہنو، اگلا مرحلہ کام، استقامت، کامیابی اور مسابقت کا ہے، اور اس میں خوش فہمی کی کوئی گنجائش نہیں ، کیونکہ عظیم عزائم کے لیے اور بھی بڑے عزم کی ضرورت ہے۔

 

متحدہ عرب امارات اپنے ارد گرد ہونے والی تبدیلیوں کی نوعیت، چیلنجز اور مواقع سے پوری طرح واقف ہے۔ ہم ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے کام کر رہے ہیں اورہم ایک واضح، موثر اور جامع نقطہ نظر کے ساتھ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ہم اپنے وسائل، اپنی صلاحیتوں اور اپنے بچوں کی جسمانی اور عقلی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہیں۔ ہم اپنے دوستوں اور بھائیوں کے ساتھ مخلصانہ اور مثبت تعاون کرتے ہیں۔ اور ہم اپنے قومی مفادات کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کے لیے احتیاط سے آگے بڑھتے ہیں۔ ہم اپنے ترقیاتی اہداف کی تکمیل کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت داری کو مضبوط کر رہے ہیں۔ ہم علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر متوازن اور ذمہ دارانہ پالیسیاں اختیار کررہے ہیں۔


بھائیو،بہنو اور بیٹو

اپنے شہریوں کا خیال رکھنا اور ان کے سامنے ترقی، تخلیقی صلاحیتوں اور خود اعتمادی کے تمام راستے کھولنا ہماری اولین ترجیح رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی اور ہم اس مقصد کے حصول کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ ہم ایسے منصوبوں کو تیار کرنا اور ان پر عمل درآمد جاری رکھیں گے جو شہریوں کو بااختیار بنانے اور بغیر کسی استثنا کے تمام شعبوں میں ان کے لیے دستیاب مواقع کو بڑھانے کے گرد گھومتے ہیں، کیونکہ بااختیار بنانا ایک مخصوص مدت کے ساتھ کوئی عبوری پالیسی نہیں بلکہ ایک جاری عمل اور پائیدار نقطہ نظر ہے۔

 

اس پالیسی کے مرکز میں، نوجوانوں کو ہمارے ملک کے حال اور مستقبل کے وژن میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے ، کیونکہ وہ ترقی اور آگے بڑھنے کے لیے تخلیقی توانائی کے نمائندہ ہیں اورانھوں نے قومی کوششوں کے تمام شعبوں میں اپنی قابلیت کو ثابت کیا دیا ہے۔اگلے مرحلے میں اماراتی خواتین کے کردار کو تمام شعبوں میں مضبوط کیا جائے گا۔ کوئی بھی معاشرہ خواتین کی شمولیت کے بغیر ترقی کی اس سطح پر نہیں جا سکتا جس کی وہ خواہش کرتا ہے۔

 

اگلے مرحلے کے دوران، تعلیم یافتہ اور قابل نوجوانوں پر قابل بھروسہ حیثیت کے حامل ہوں گے کیونکہ وہ قومی دولت کے اہم ترین عناصر اور مستقبل کی طرف پیش رفت کو یقینی بنانے کا بنیادی عنصر ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہمارا ملک پوری دنیا سے ہنر، قابلیت اور روشن ذہنوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا رہے گا اور ہر اس ہاتھ کا خیرمقدم کرتا ہے جو ہمارے ملک کی تعمیر اور جدت میں شریک ہوتے ہوئے ترقیاتی عمل میں حصہ ڈالتا ہے اور جو اس سرزمین پر وقار، رواداری کے ساتھ کام کرنے اور رہنے کے خواہاں ہوں گے۔


بھائیو ،بہنو اور بیٹو

کووڈ19کے منفی نتائج اور دیگر علاقائی اور عالمی بحرانوں بشمول اقتصادی بدحالی کے باوجود متحدہ عرب امارات کی معیشت نے اللہ کے فضل اور متحدہ عرب امارات کے صدر اور وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران میرے بھائی عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کی قیادت میں حکومت کی مخلصانہ کوششوں کی بدولت تیزی سے ترقی کی ہے۔

 

اس سے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں "امارتی ایکسیپشن" کی حیثیت کو استحکام ملا ہے جو ریاست کی بنیادوں کی مضبوطی، مستقبل کے لیے اس کے جامع وژن، ہر قسم کے بحرانوں سے نمٹنے میں اس کی کارکردگی، اور موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے پائیدار ترقی کے حصول کے لیے اپنے وسائل کے بہترین استعمال کی وجہ سے ہے۔

 

متحدہ عرب امارات اپنی قومی سلامتی کے لیے سٹریٹجک اہمیت کے حامل اقتصادی شعبوں کی مدد کے لیے تمام دستیاب مواقع میں سرمایہ کاری جاری رکھے گا، جن میں صنعت، ٹیکنالوجی، فوڈ سیکیورٹی، قابل تجدید توانائی اور صحت شامل ہیں۔ یہ وہ شعبے ہیں جن کی حالیہ تازہ ترین عالمی صورتحال نے موجودہ اور مستقبل کی منصوبہ بندی میں ترجیح دینے کی ضرورت کو اجاگرکیا ہے۔

 

بھائیو،بہنو اور بیٹو

متحدہ عرب امارات ہر اس چیز کا کلیدی شراکت دار اور حامی رہے گا جو انسانیت کی خوشحالی اور ترقی کا باعث اور موسمیاتی تبدیلی، فوڈسیکیورٹی، بیماریوں، وبائی امراض اور غربت جیسے اہم چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دنیا کی صلاحیت کو فروغ دیتے ہیں۔

اس تناظر میں، متحدہ عرب امارات موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ فریم ورک کنونشن (COP 28) کے فریقین کی کانفرنس میں سرمایہ کاری کرے گا، جس کی میزبانی وہ اگلے سال کرے گا، تاکہ کرہ ارض کے تحفظ اور آب و ہوا کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اجتماعی بین الاقوامی کوششوں کو ترغیب دی جا سکے۔

 

متحدہ عرب امارات امن اور استحکام کو مضبوط کرنے کے لیے اپنا پائیدار کردار جاری رکھے گا، اور تنازعات اور مسائل کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا چاہے ان کی نوعیت، مقام اور پیچیدگی کی حد کچھ بھی ہو ۔ یہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر افہام و تفہیم اور بات چیت کے مواقع کو بڑھانے کے لیے ہر سمت میں پیش رفت کرے گا اور انتہا پسندی اور عدم برداشت کو مسترد کرتے ہوئے، برداشت اوراعتدال پسندی پر زور دے گا۔

 

2022 کے آغاز میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں رکنیت حاصل کرنے کے بعد سے، متحدہ عرب امارات نے اپنے موقف اور اقدامات کے ذریعے، تعاون، امن اور ترقی کی طرف پوری دنیا کے لوگوں کی امنگوں کی ترجمانی کی۔ یہ کونسل کی بقیہ رکنیت کے دوران اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا تاکہ تاریخ کے مشکل ترین مراحل میں سے ایک کے دوران بین الاقوامی اجتماعی کوشش کرنے والے اہم ترین اداروں میں سے ایک میں نمایاں اماراتی-عرب نقوش چھوڑ سکے۔

 


بھائیو،بہنو اور بیٹو

تیز رفتار علاقائی اور بین الاقوامی تبدیلیوں کی روشنی میں، متحدہ عرب امارات عرب عوام کے فائدے کے لیے عرب-عرب شراکت داری کو مضبوط بنانے کی اہمیت کو سمجھتا ہے، اور ایک ایسی ترقی کے لیے عرب وسائل اور صلاحیتوں کی سرمایہ کاری میں تعاون کررہا ہے جس سے سب کو فائدہ پہنچے۔

 

دنیا بھر میں حالیہ تبدیلیوں نے کسی خاص خطے یا جغرافیائی علاقے سے تعلق رکھنے والے ممالک کے درمیان جیسا کہ عرب ممالک بالعموم یا خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے لیے خاص طور پرعلاقائی تعاون کے تمام پہلوؤں کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا ہے ۔ ہمارے ممالک میں ہم آہنگی اور انضمام کی ایسی صلاحیت موجود ہے جو دوسرے خطوں میں دوسرے ممالک کے لیے ممکن نہیں ہے۔

متحدہ عرب امارات، اپنے بھائیوں کے تعاون سے، عرب انضمام کو نئی بنیادوں پر فروغ دینے کے لیے کام کر رہا ہے جو مشترکہ مفادات کی بنیاد پر، اقتصادی و ترقیاتی تعاون میں جڑے ہوئے ہیں اور جن کا اولین مقصد عوام کی خوشحالی اور ترقی ہے۔

 

بھائیو،بہنو اور بیٹو

 

آج ہم ہر جگہ اور وقت اپنے شہداء کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں، اور ہم ان کے لیے دعا کرتے ہیں جو انہوں نے متحدہ عرب امارات، اس کی اقدار اور اصولوں کے دفاع میں لازوال قربانیاں دی ہیں، جو پوری تاریخ میں ہمارے لوگوں کی قربانیوں کو مجسم کرتی ہیں جن کے نتیجے میں وطن عزیز کے ستونوں کو فخر، شان اور ناقابل تسخیر بنیادوں پر قائم کیا گیا۔

 

عزت ماب نے کہا کہ وہ اس موقع پر اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہماری مسلح افواج قوم کا مضبوط قلعہ، اس کی حفاظتی ڈھال اور زمانوں سے گہری جڑی ہوئی قومی اقدار اور اصولوں کی درس گاہ رہی ہیں، اور ہمیشہ رہیں گی، اور اس کی ترقی اور جدت اولین ترجیح رہے گی جیسا کہ ہمیشہ سے ہے۔

 

ہم اپنی سیکیورٹی فورسز کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جو وطن کی سلامتی، معاشرے کی حفاظت، شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ اور کام، ترقی اور آگے بڑھنے کے لیے مناسب حالات کی فراہمی کے لیے چوکس ہیں۔ ہم سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے فرض کی انجام دہی میں بھرپور محنت، خلوص اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔

 

بھائیو،بہنو اور بیٹو

عزت مآب نے کہا کہ وہ اس دن کےموقع پر اپنے بھائیوں متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں اور ولی عہد شہزادوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں ، اور اللہ تعالی سے ہمارے ملک کو محفوظ رکھنے، اس کے اتحاد، ہم آہنگی اور محبت کو برقرار رکھنے، اور اسے ہمیشہ ترقی، نشاۃ ثانیہ اور فخر کی علامت بنائے رکھنے کی دعا کرتے ہیں۔ قومی دن مبارک ہو!

ترجمہ۔تنویرملک

 

https://wam.ae/en/details/1395303107552